سلف کے منہج اور سلف کے فہم میں فرق کرنا

Share

سلف کے منہج اور سلف کے فہم میں فرق کرنا

مصنف: العلامہ شیخ ربیع بن ہادی المدخلی (رحمہ اللّٰہ) سے یہ سوال پوچھا گیا:

سوال: ہمارے شیخ! اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو منہجِ سلف اور فہمِ سلف میں فرق کرتا ہے، اور کہتا ہے: ”میں منہجِ سلف پر چلتا ہوں، لیکن اپنے آپ کو فہمِ سلف کا پابند نہیں سمجھتا۔“

جواب: اللّٰہ کے نام سے شروع، جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اللّٰہ ہی کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہوں اللّٰہ کے رسول ﷺ، آپ کی آل، آپ کے صحابہ، اور ان تمام لوگوں پر جنہوں نے آپ کی ہدایت کی پیروی کی۔ اما بعد:

میری رائے یہ ہے کہ اگر یہ بات کہنے والا حقیقتاً منہجِ سلف کا پابند ہو، اور اسی بنیاد پر اس کی شہادت بھی دی جاتی ہو، تو اس کے اس کلام کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ: میں ہر مسئلے میں محض تقلید نہیں کرتا۔ یعنی کسی مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، اور اگر کسی مسئلے میں سلف کے بعض اقوال میں اختلاف ہو تو دلائل کی روشنی میں کسی ایک قول کو راجح سمجھ لیتا ہوں، بشرطیکہ وہ سلف کے عقیدے اور فقہ کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔

کیونکہ بعض فروعی مسائل میں خود سلف کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ نصوص کے فہم میں امام مالک اور امام شافعی کے درمیان، یا امام شافعی اور امام احمد کے درمیان بعض جزوی مسائل میں اختلاف ملتا ہے۔ ایسے مسائل میں شرعی دلائل اور قرآن و سنت کی نصوص کی روشنی میں غور و فکر کر کے اگر کسی ایک قول کو راجح سمجھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ اگر اس کا مقصد منہجِ سلف کی پابندی سے آزاد ہونا ہے — اگرچہ میرا گمان نہیں کہ کوئی سلفی ایسا مقصد رکھتا ہو — تو حسنِ ظن کی بنا پر میں اس کے کلام کو اسی معنیٰ پر محمول کرتا ہوں جو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔

لیکن اگر کوئی شخص سلف کے فہم سے نکل کر اپنے ایسے نئے فہم کو پیش کرنا چاہتا ہو جس کی اس سے پہلے کسی نے مثال نہ دی ہو، اور اسی کے ذریعے سلف کے فہم کا مقابلہ کرے، تو ایسی بات ہرگز قابلِ قبول نہیں۔بہرحال، حسنِ ظن کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے کلام کو اسی صحیح معنیٰ پر محمول کیا جائے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔

اور میرا خیال ہے کہ ہمارے مشائخ بھی، اس بات سے اتفاق کریں گے، اللّٰہ آپ سب کو برکت دے۔

اس موقع پر میں ہر جگہ کے سلفیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ منہجِ سلف اور سلف کے فہم کو مضبوطی سے اختیار کریں۔

البتہ اس منہج اور اس فہم کے دائرے میں رہتے ہوئے، اگر دلائل کی بنیاد پر کسی قول کو راجح سمجھیں تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن وہ سلفیوں کے سامنے ایسے نئے نظریات نہ لائیں جو منہجِ سلف سے باہر، اہلِ بدعت، گمراہ فرقوں یا مختلف جماعتوں سے اخذ کیے گئے ہوں، پھر انہیں سلفیوں پر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ اس کا نتیجہ اختلاف، تفرقہ اور انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔

العربية:

فأنا أنصح هذا الصنف من الناس أن يتوبوا إلى الله -تبارك وتعالى- وأن يبتعدوا عن أسباب الفتن وعن الأمور التي تورث الفرقة والشتات بين السلفيين، وهذا أمر -يعني- يجري الآن في كثير من المناطق، وسببها إنسان: فكرة أخذها عن خصوم المنهج السلفي ويرى أنها حق، ثم يدعو إليها ويوالي ويعادي من أجلها، فيؤدي ذلك إلى تشتيت السلفيين وتفريقهم وتمزيقهم. فنحن ننصح هؤلاء أن يتوبوا إلى الله وأن يتركوا هذه الأمور التي تؤدي إلى الفرقة ولو كانوا يرون أنفسهم أنهم على الحق.

لہٰذا میں ایسے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اللّٰہ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں، اور ان تمام اسباب سے دور رہیں جو فتنوں کو جنم دیتے اور سلفیوں کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا کرتے ہیں۔

آج بہت سے علاقوں میں یہی معاملہ پیش آ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی شخص منہجِ سلف کے مخالفین سے کوئی نظریہ لے لیتا ہے، پھر اسے حق سمجھ کر اس کی دعوت دینے لگتا ہے، اسی کی بنیاد پر دوستی اور دشمنی قائم کرتا ہے، اور یوں سلفیوں کو منتشر، متفرق اور پارہ پارہ کر دیتا ہے۔

اس لیے ہم ایسے لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اللّٰہ سے توبہ کریں، اور ان تمام باتوں کو ترک کر دیں جو امت میں تفرقہ پیدا کرتی ہیں، اگرچہ وہ اپنے گمان میں خود کو حق پر ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔

مصدر: ’انحراف کے اسباب اور منہجی رہنمائیاں‘ کے عنوان سے ایک کیسیٹ

لنک: rabee.net

ترجمہ: زبیر بن محمد عباسی

التفریق بين منهج السلف و فهم السلف

المصنف: سئل العلامة الشيخ ربيع بن هادي المدخلي (رحمه الله):

السؤال: شيخنا: ما رأيكم ممن يفرق بين منهج السلف وفهم السلف ويقول: ”أنا أسير على منهج السلف ولا أتقيد بفهم السلف“؟

الجواب: بسم الله الرحمن الرحيم, الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اتبع هداه, أما بعد:

فإني أرى أن صاحب هذا الكلام إن كان متقيدا حقا بمنهج السلف ومشهود له بذلك وقال مثل هذه العبارة ويقصد: أني لا أقلد في كل شيء، وإنما قد أفهم شيئا لكن أنا أضيف عليه أنه يفهم ويخالف بعض السلف لكن لا يخرج عن إطار عقائد السلف وفقه السلف ثم قد يرجح، تجد مسائل اختلف فيها السلف, فإن مفاهيم السلف تختلف في شيء من القضايا الفرعية في فهم النصوص في الأمور الفرعية قد تختلف بين مالك والشافعي، بين الشافعي وأحمد، فيدرس في ضوء الأدلة الشرعية وفي ضوء النصوص القرآنية والنبوية فيترجح له مذهب على مذهب, فله ذلك،

أما إذا كان يقصد الانفلات -وما أظن سلفيا يقصد هذا- فمن باب حسن الظن أحمل كلامه على أنه يريد هذا الأمر الذي ذكرته أنا، فأما إذا كان هذا الإنسان يريد الانفلات من فهم السلف ويقارعهم بفهمه الذي ابتدعه ولم يسبقه إليه أحد, فلا ولا كرامة، وعلى كل حال نحمل -يعني- كلامه من باب حسن الظن على ما قلته سلفا. وأظن المشايخ يوافقون على هذا الكلام -بارك الله فيكم-

وأقول بهذه المناسبة: أنا أنصح السلفيين في كل مكان أن يتقيدوا بمنهج السلف و فهمه وله أن يرجح في إطار هذا المنهج وإطار هذا الفهم، يرجح ما يتبين له أنه الحق, لكن لا يخرج على السلفيين بآراء جديدة يقتبسها من خارج منهج السلف, من طوائف البدع والضلال ومن الأحزاب وغيرها، ثم يريد أن يفرضها على السلفيين، فتؤدي إلى الفرقة والخلاف, فأنا أنصح هذا الصنف من الناس أن يتوبوا إلى الله -تبارك وتعالى- وأن يبتعدوا عن أسباب الفتن وعن الأمور التي تورث الفرقة والشتات بين السلفيين وهذا أمر -يعني- يجري الآن في كثير من المناطق وسببها إنسان: فكرة أخذها عن خصوم المنهج السلفي ويرى أنها حق، ثم يدعو إليها ويوالي ويعادي من أجلها، فيؤدي ذلك إلى تشتيت السلفيين و تفريقهم و تمزيقهم, فنحن ننصح هؤلاء أن يتوبوا إلى الله وأن يتركوا هذه الأمور التي تؤدي إلى الفرقة ولو كانوا يرون أنفسهم أنهم على الحق.

مصدر: شريط بعنوان: ’أسباب الانحراف وتوجيهات منهجية‘

الرابط: rabee.net